Free English Text to Speech

963dacea-dc72-418f-a31c-c470baa2b3d8

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : پانچ چیزیں فطرت میں سے ہیں : مونچھ کترنا، بغل کے بال اکھیڑنا، ناخن تراشنا، زیر ناف کے بال صاف کرنا، اور ختنہ کرنا ۔

Use these settings →

2026-03-29

963dacea-dc72-418f-a31c-c470baa2b3d8

ID: a2fa7cd2-8dc8-4954-b6b8-afe46ff0a946

Created: 2026-03-29T03:11:34.124Z

More Shares

f7b933de-8ac6-4a8d-b919-ac275d897049

اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو نہ صرف عبادات بلکہ معاشرتی، معاشی اور اخلاقی پہلوؤں کی بھی رہنمائی کرتا ہے۔اپنی تعلیمات میں ایک نہایت اہم اور بنیادی تصور انفاق فی سبیل اللہ کا ہے، جس کا مطلب ہے اللہ کی رضا کے لیے اپنے مالکو خرچ کرنا۔ یہ صرف مالی لین دین نہیں بلکہ ایک روحانی عمل ہے، جو انسان کے دل کو بخل اور حرص سے پاک کرتا ہے اور اسے ایثار، ہمدردی اور قربانی جیسے اعلیٰ اوصاف سے مزین کرتا ہے۔ قرآنِ مجید میں متعدد مقامات پر انفاق کی ترغیب دی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، ان کی مثال اس دانے کی سی ہے جس سے سات بالیں اگیں اور ہر بالی میں سو دانے ہوں۔ یہ تمثیل اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ اللہ کے ہاں خرچ کیا گیا مال ضائع نہیں ہوتا بلکہ کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔ انفاق فی سبیل اللہ کا دائرہ صرف زکوٰۃ تک محدود نہیں بلکہ صدقاتِ خیرات، ضرورت مندوں کی مدد، تعلیم، صحت اورسماجی انصاف کو فروغ دینے کی ہر کوشش بھی اس کا حصہ ہے۔ نبی کریم ﷺ نے بھی انفاق کی بڑی فضیلت بیان فرمائی ہے۔ آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ صدقہ دینے سے مال کم نہیں ہوتا بلکہ اللہ اس میں برکت عطا فرماتا ہے۔ یہ تعلیم اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اسلامی معاشرہ صرف افراد کی ذاتی خوشحالی کا نہیں بلکہ اجتماعی فلاح کا بھی خواہاں ہے، جہاں صاحبِ حیثیت افراد اپنے وسائل کو دوسروں کے ساتھ بانٹ کر معاشرتی توازن برقرار رکھیں اور غربت و محرومی کا خاتمہ ہو۔ انفاق کی ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ یہ صرف کسی مالی کمی کو پورا کرنے کا نام نہیں بلکہ دل کی تنگی کو بھی دور کرتا ہے۔ جو شخص اللہ پر یقین رکھتے ہوئے اس کی محبت میں اپنا کچھ خرچ کرتا ہے، وہ حساب میں نہیں رہتا

"f7b933de-8ac6-4a8d-b919-ac275d897049"

← Return to Studio