صلاح الدین ایوبی نے مدرسہ نظام الملک میں تعلیم حاصل کی ۔ یاد رہے کہ نظام الملک دنیائے اسلام کی ایک سلطنت کے وزیر تھے ۔ یہ مدرسہ انہوں نے قائم کیا تھا جس میں اسلامی تعلیم دی جاتی اور بچوں کو اسلامی نظریات اور تاریخ سے بہرہ ور کیا جاتا تھا ۔ ایک مورخ ابن الاطہر کے مطابق نظام الملک، حسن بن صباح کے فدائیوں کا پہلا شکار ہوئے تھے کیونکہ وہ رومیوں کی توسیع پسندی کی راہ میں چٹان بنے ہوئے تھے ۔ روسیوں نے ۱۰۹۱ میں انہیں فدائیوں کے ہاتھوں قتل کرا دیا ۔ ان کا مدرسہ قائم رہا ۔ صلاح الدین ایوبی نے وہیں تعلیم حاصل کی ۔ اسی عمر میں اس نے سپاہ گری کی تربیت اپنے بزرگوں سے لی ۔ نورالدین زنگی نے اسے جنگی چالیں سکھائیں، ملک کے انتظامات کے سبق دینے اور ڈپلومیسی میں مہارت دی ۔ اس تعلیم و تربیت نے اس کے اندر وہ جذبہ پیدا کر دیا جس نے آگے چل کر اسے صلیبیوں کے لیے بجلی بنا دیا۔ اوئل جوانی میں ہی اس نے وہ زہانت اور اہلیت حاصل کر لی تھی جو ایک سالار اعظم کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ صلاح الدین ایوبی نے فن حرب و ضرب میں جاسوسی (انٹیلی جنس)، کمانڈو اور گوریلا اپریشن کو خصوصی اہمیت دی ۔ اس نے دیکھ لیا تھا کہ صلیبی جاسوسی کے میدان میں آگے نکل گئے ہیں اور وہ مسلمانوں کے نظریات پر نہایت کارگر حملے کر رہے ہیں ۔ صلاح الدین ایوبی نظریات کے محاذ پر لڑنا چاہتا تھا جس میں تلوار استعمال نہیں ہوتی ۔
Use these settings →2026-03-30
0c60beab-20bc-4489-aac7-d84d52ba52fc
ID: a1e947f2-bd09-4d59-be90-c8c6add75d7a
Created: 2026-03-30T02:40:02.242Z