صلاح الدین ایوبی سے کہا گیا کہ حضور بڑی لمبی مسافت سے تشریف لائے ہیں پہلے آرام کرلیں تو اس نے کہا۔ میرے سر پر جو دستار رکھ دی گئی ہے میں اس کے اہل نہ تھا۔ اس دستار نے میرا آرام اور میری نیند ختم کر دی ہے۔ کیا آپ حضرات مجھے اُس چھت کے نیچے نہیں لے چلیں گے جہاں میرے فرائض میرا انتظار کر رہےہیں ؟“ کیا حضور کام سے پہلے طعام پسند نہیں فرمائیں گے ؟“۔ اُس کے نائب نے پوچھا۔ صلاح الدین ایوبی نے کچھ سوچا اور ان کے ساتھ چل پڑا۔ لمبے تڑنگے ، قوی ہیکل باڈی گارڈز اس عمارت کے سامنے دو رویہ کھڑے تھے جس میں کھانے کا انتظام کیا گیا تھا۔ ایوبی نے ان گارڈز کے قد، بت اور ہتھیار دیکھے تو اس کے چہرے پر رونق آگئی مگر یہ رونق دروازے میں قدم رکھتے ہی غائب ہو گئی۔ وہاں چار نوجوان لڑکیاں جن کے جسموں پر زہد شکن لچک اور شانوں پر بکھرے ہوئے ریشمی بالوں میں قدرت کا حسن سمویا ہوا تھا، ہاتھوں میں پھولوں کی پتیوں سے بھری ہوئی خوشنما ٹوکریاں اٹھائے کھڑی تھیں۔ انہوں نے صلاح الدین ایوبی کے راستے میں پتیاں بکھیرنی شروع کر دیں۔
Use these settings →2026-04-01
d3e7cd77-fd19-4b2e-92a2-c0d855004e05
ID: 7d006bd9-b982-4900-9fa2-5cf37bc00d99
Created: 2026-04-01T13:35:54.385Z