2026-02-28
ایک نوجوان طالبِ حق، سکون کی تلاش میں خانقاہ کی طرف بڑھ رہا تھا۔ اس کے دل میں سوال تھے اور آنکھوں میں امید کی روشنی۔ خانقاہ میں ایک نقشبندی درویش خاموشی سے ذکر میں مشغول تھے۔ مرید ادب سے کھڑا ہو کر رہنمائی کا طالب بنا۔ مرید نے عرض کیا: حضور! مجھے راہِ سلوک سکھا دیجئے۔ میں اپنے رب کی قربت حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ شیخ نے مسکرا کر ایک خالی پیالہ اس کے ہاتھ میں تھما دیا۔ اور فرمایا: اسے پانی سے بھر کر لاؤ، مگر ایک قطرہ بھی نہ گرے۔ مرید دریا کی طرف روانہ ہوا، عزم اس کے قدموں میں جھلک رہا تھا۔ راستہ طویل تھا مگر نیت مضبوط تھی۔ اس نے احتیاط سے پیالہ پانی سے بھر لیا۔ ہر لہر میں اسے اپنی آزمائش دکھائی دی۔ واپسی کے سفر میں اس کی نظریں صرف پیالے پر مرکوز رہیں۔ وہ ہر قدم سوچ سمجھ کر رکھ رہا تھا۔ راستے کی رنگینیاں اسے پکارتی رہیں۔ مگر اس کا دل صرف امانت کی حفاظت میں مصروف تھا۔ آخرکار وہ پیالہ سلامت لے کر شیخ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس کے چہرے پر سکون اور تھکن دونوں نمایاں تھے۔ شیخ نے نرمی سے پوچھا: راستے میں کیا دیکھا؟ کیا دنیا کی کوئی شے تمہیں بھٹکا سکی؟ مرید نے جھکا کر عرض کیا: میں نے کچھ نہ دیکھا۔ میری ساری توجہ پیالے پر تھی کہ پانی نہ گرے۔ شیخ نے فرمایا: یہی راہِ سلوک کا راز ہے۔ جب دل رب کی یاد میں محو ہو جائے تو دنیا کی چمک ماند پڑ جاتی ہے۔ یہ سن کر مرید کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اسے پہلی بار دل کا راستہ سمجھ آیا۔ اسی دن سے اس نے ذکرِ الٰہی کو اپنا معمول بنا لیا۔ اس کے دل میں سکون اترنے لگا۔ شیخ اور مرید پہاڑ کی بلندی پر بیٹھے افق کو دیکھ رہے تھے۔ اور دلوں میں یقین تھا کہ اصل سفر اندر کی دنیا کا ہے۔
ID: 7be8c4c7-3f9e-466e-9294-99e74357408d
Created: 2026-02-28T06:07:11.810Z