دنیا کی تاریخ میں بے شمار بادشاہ گزرے ہیں… کچھ اپنی طاقت کی وجہ سے مشہور ہوئے، کچھ اپنی دولت کی وجہ سے۔ مگر تاریخ کے اوراق میں ایک ایسی عظیم ہستی بھی گزری ہے جسے صرف بادشاہت ہی نہیں ملی… بلکہ نبوت کا بلند ترین مقام بھی عطا ہوا۔ یہ وہ ہستی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ایسی سلطنت عطا فرمائی کہ انسان، جانور، پرندے، جنات… حتیٰ کہ ہوا بھی ان کے حکم کی تابع تھی۔ جی ہاں… وہ عظیم نبی اور عظیم بادشاہ تھے — حضرت سلیمان علیہ السلام۔ ایک دن کا ذکر ہے… دربار اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ سجا ہوا تھا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام اپنے شاہی تخت پر جلوہ افروز تھے۔ دربار میں انسان بھی موجود تھے، جنات بھی… اور مختلف علاقوں کے لوگ بھی اپنے مسائل لے کر حاضر تھے۔ اسی دوران ملکہ سبا… یعنی ملکہ بلقیس… نہایت ادب اور وقار کے ساتھ دربار میں داخل ہوئیں۔ انہوں نے جھک کر سلام کیا اور عرض کیا: “اے اللہ کے نبی… میں نے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسا تخت عطا فرمایا ہے جو ہوا کے ذریعے آسمانوں میں سفر کرتا ہے… اور آپ بہت کم وقت میں دور دراز علاقوں تک پہنچ جاتے ہیں۔” وہ کچھ لمحے رُکیں… پھر آہستہ بولیں: “اگر آپ اجازت دیں تو میں بھی اس تخت پر بیٹھ کر دنیا کے مختلف مقامات دیکھنا چاہتی ہوں… تاکہ میں اپنی آنکھوں سے اللہ کی قدرت کے حیرت انگیز نظارے دیکھ سکوں۔” یہ سن کر دربار میں خاموشی چھا گئی… حضرت سلیمان علیہ السلام چند لمحے سوچتے رہے… پھر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ فرمایا: “اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا… تو تمہاری یہ خواہش ضرور پوری ہوگی۔” بس پھر کیا تھا… کچھ ہی دیر بعد وہ دونوں اس عظیم اڑنے والے تخت پر سوار ہو گئے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے آسمان کی طرف دیکھا… اور فرمایا: “اے ہوا… ہمیں وہاں لے چل جہاں اللہ کی قدرت کا سب سے حسین منظر موجود ہو۔” یہ الفاظ ادا ہونا تھے کہ نرم ہوا چلنے لگی… تخت آہستہ آہستہ بلند ہونے لگا… پھر… آسمان کی وسعتوں میں اڑتا ہوا وہ تخت سفر پر روانہ ہو گیا۔ نیچے پہاڑ رہ گئے… دریا پیچھے رہ گئے… شہر اور بستیاں چھوٹی ہوتی گئیں۔ ملکہ بلقیس حیرت سے ہر منظر کو دیکھ رہی تھیں… کچھ دیر بعد وہ سمندر کے اوپر پہنچ گئے۔ نیچے نیلا پانی تھا… اور دور دور تک صرف لہریں ہی لہریں۔ اچانک… افق پر ایک شاندار منظر نظر آیا۔
Use these settings →2026-03-12
fd3e9e88-df48-404a-ad42-bd12b98ba6b6
ID: 614f014f-2754-49cb-b645-620ffb8c2a09
Created: 2026-03-12T00:36:06.036Z