فیشن کلچر دراصل ایک ایسا سماجی رجحان ہے جو ظاہری تبدیلی کو ترقی، کامیابی اور برتری کی علامت بنا دیتا ہے۔ ہر نئے موسم کے ساتھ نیا انداز، نئی تراش خراش اور نیا معیار متعارف کروایا جاتا ہے۔ اس تسلسل کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان کبھی اطمینان محسوس نہیں کرتا اور ہمیشہ کمی کا شکار رہتا ہے۔ خاص طور پر عورت کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ اس کی قدر اس کے لباس، شکل اور انداز سے جڑی ہوئی ہے۔ یہ سوچ آہستہ آہستہ انسان کو مقصدِ حیات سے دور کر دیتی ہے۔ اسلام اس نفسیاتی دبائو کو قبول نہیں کرتا۔ قرآن انسان کو شعور، غور و فکر اور خود احتسابی کی دعوت دیتا ہے (البقرہ: 44، یونس: 100)۔ اسلامی نقط نظر سے فیشن بذاتِ خود حرام نہیں، کیونکہ تبدیلی انسانی فطرت کا حصہ ہے۔ مگر مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں فیشن مقصد بن جائے اور دین اس کے تابع ہو جائے۔ فیشن کلچر اکثر اندھی تقلید کو فروغ دیتا ہے، جس میں نہ اخلاقی حد دیکھی جاتی ہے اور نہ دینی۔ اسلام انسان کو باخبر انتخاب کی تعلیم دیتا ہے، نہ کہ بہائو میں بہنے کی۔ مسلم عورت کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر رائج چلن کو قبول کرنے سے پہلے اس کے اثرات کو سمجھے۔ ہر مقبول چیز فائدہ مند نہیں ہوتی۔ اصل سوال یہی ہے کہ آیا یہ رجحان دین کے اصولوں کے اندر رہتے ہوئے اپنایا جا رہا ہے یا نہیں۔ اسلام میں حسن اور زینت کا متوازن تصور اسلام حسن اور زینت کو انسانی فطرت کا حصہ تسلیم کرتا ہے، نہ کہ کوئی گناہ یا ناپسندیدہ عمل۔ قرآن واضح طور پر بتاتا ہے کہ اللہ تعالی نے زینت اپنے بندوں کے لیے پیدا کی ہے اور اسے اصولا حرام نہیں کیا (الاعراف: 32)۔ اس سے یہ بنیادی اصول سامنے آتا ہے کہ اسلام حسن کا مخالف نہیں بلکہ اس کے استعمال کی رہنمائی کرتا ہے۔ تاہم اسلام حسن کو زندگی کا مقصد نہیں بناتا بلکہ اسے ایک محدود دائرے میں رکھنے کا حکم دیتا ہے۔ شریعت حسن کو اخلاق، حیا اور تقوی کے تابع رکھتی ہے۔
Use these settings →2026-04-07
d1d3d5c4-a5b3-4dee-988a-210bfc390e10
ID: 5970d853-710b-428f-bfae-9551915ad783
Created: 2026-04-07T11:38:15.430Z