Free English Text to Speech

48626e96-94a3-43d7-bcab-be94ccff15b5

यह सब के सब एपीसी के अंदर आ जाते हैं और इनका एक साथी गोलियां लेने के लिए जाता है और जब वह गोलियों के बॉक्सेस ला रहा होता है वहां पर एलियन वॉर मशीन आ जाती है जो उस सोल्जर को स्कैन करके उस पर हमला करके उसे मार देती है। पर मरने से पहले वो गोलियों के बॉक्सेस को सार्जेंट 81 की तरफ फेंकता है। जिन्हें वह पकड़ कर एपीसी के अंदर आ जाता है। और अब यह सब के सब उस गाड़ी से यहां से भागना शुरू कर देते हैं। पर अब भी वॉर मशीन उनके पीछे है जो इनकी एपीसी के सामने बहुत सारे बॉम्ब को बरसाती है। पर किसी तरह से यह उनसे बचकर आगे निकलने में कामयाब हो जाते हैं और अब यह भी वॉर मशीन के ऊपर हमला करते हैं। पर वो इतनी ज्यादा एडवांस होती है कि इनके हमलों का उस पर कोई असर नहीं होता। जिसके बाद वॉर मशीन इनके ऊपर लेजर से हमला करती है। और अब सार्जेंट 81 देखता है कि सामने एक चट्टान है। वो चट्टान पर हमला करता है जिससे चट्टान के पत्थर नीचे गिरते हैं और वॉर मशीन का रास्ता बंद हो जाता है। वह अपने साथी से कहता है कि एपीसी को रोको। पर अब उसकी मृत्यु हो चुकी है। जिस वजह से इनकी एपीसी का एक्सीडेंट हो जाता है। सार्जेंट 81 देखता है कि उसके लगभग सभी साथी मारे जा चुके हैं और अब दूर उसे एलियन वॉर मशीन दिखती है जो कि अपने साथियों से दूसरी दुनिया से कांटेक्ट कर रही है। सार्जेंट देखता है कि इनका साथी नंबर सेवन जो पहले से जख्मी था वह अब भी जिंदा है। उसे देखकर उसे बहुत खुशी होती है। जिसके बाद वह उसे लेकर यहां से आगे बढ़ जाता है। रात को यह दोनों एक जगह आराम करते हैं। नंबर सेवन सार्जेंट 81 को बताता है कि आर्मी में मैं तुम्हारे भाई के साथ था। वह हमेशा एक रेंजर बनना चाहता था। उसके हाथ पर भी वैसा ही टैटू था जैसा तुम्हारे हाथ पर है। पर एक दिन मुझे पता चला कि वह इस दुनिया में नहीं रहा। सार्जेंट 81 उसे बताता है कि मेरे भाई का एक ही सपना था कि हम दोनों रेंजर्स बने। इसीलिए मैं यहां पर उसके सपने को पूरा करने के लिए आया हूं। मैं किसी भी कीमत पर इस प्रोग्राम को पूरा करना चाहता हूं क्योंकि यह मेरे भाई का सपना था। उसके सपने को पूरा करके ही मुझे अच्छी नींद आएगी। नंबर सेवन कहता है कि तुम सच में एक सच्चे रेंजर हो और तभी सार्जेंट 81 देखता है कि वॉर मशीन जो इनसे बहुत दूर है उसके अंदर से धुआं निकल रहा है।

Use these settings →

2026-03-17

48626e96-94a3-43d7-bcab-be94ccff15b5

ID: 552a5dab-60c4-4daa-86cf-379686a0a923

Created: 2026-03-17T14:10:47.265Z

More Shares

05f8b004-18ab-4d36-8770-2cbff558f514

Phil چپ تھا۔ وہ دیوار کی طرف دیکھ رہا تھا۔ Jim کھڑا ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ لیکن جگہ اتنی چھوٹی تھی کہ وہ اپنا سر اوپر نہیں کر سکتا تھا۔ کشتی کا ڈھانچہ الٹا تھا۔ نیچے جو پہلے فرش تھا، وہ اب چھت تھا۔ اوپر جو چھت تھی، وہ اب فرش تھا۔ چاروں کے سر نیچے کی طرف تھے۔ پاؤں اوپر کی طرف۔ یہ پوزیشن خود بخود دماغ میں خون چڑھا دیتی تھی۔ سر میں درد رہتا تھا۔ آنکھیں سوج جاتی تھیں۔ اور وہ مسلسل لہروں کے ساتھ ڈول رہے تھے۔ ایک دن۔ دس دن۔ بیس دن۔ چاروں نے دن گننا شروع کر دیے۔ John نے کہا۔ آج پہلا دن ہے۔ Rick نے کہا۔ آج دسواں دن ہے۔ Phil نے کہا۔ آج بیسواں دن ہے۔ Jim نے کہا۔ میں بھول گیا ہوں۔ چار آدمی۔ چار مزاج۔ چاروں کی شخصیتیں ٹکرانے لگیں۔ John۔ وہ کپتان تھا۔ کشتی اس کی تھی۔ وہ چاہتا تھا کہ سب اس کی بات مانیں۔ اس نے اصول بنائے۔ کون کب کھائے گا۔ کون کب سوئے گا۔ کون کب باتیں کرے گا۔ Rick۔ وہ John کا دوست تھا۔ لیکن دوستی کا مطلب یہ نہیں کہ وہ سب کچھ مانے۔ Rick کو لگتا تھا کہ John اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھ رہا ہے۔ ایک دن Rick نے John سے کہا۔ تم کپتان ہو، تم نے ہمیں یہاں پھنسا دیا۔ John نے کہا۔ میں نے نہیں پھنسایا۔ لہر نے پھنسایا۔ Rick نے کہا۔ لیکن تم کپتان ہو۔ تمہاری ذمہ داری تھی۔ John خاموش ہو گیا۔ Phil۔ Phil خاموش تھا۔ وہ کبھی کسی سے نہیں لڑتا تھا۔ لیکن اس کی خاموشی سب سے زیادہ خطرناک تھی۔ وہ گھنٹوں دیوار کی طرف دیکھتا رہتا تھا۔ نہ بولتا۔ نہ حرکت کرتا۔ دوسروں کو لگتا تھا کہ Phil پاگل ہو رہا ہے۔ لیکن Phil پاگل نہیں تھا۔ وہ بچ رہا تھا۔ اپنے خیالوں میں۔ Jim۔ Jim سب سے کم تجربہ رکھنے والا تھا۔ وہ غلطیاں کرتا تھا۔ پانی گرادیتا تھا۔ کھانا زیادہ کھا لیتا تھا۔ باقی تین اس پر چڑھتے تھے۔ John کہتا۔ تمہیں کچھ آتا ہے؟ Rick کہتا۔ تم بوجھ ہو۔ Phil کچھ نہیں کہتا تھا۔ لیکن اس کی آنکھیں بھی Jim کو چھوٹا دکھاتی تھیں۔ لیکن Jim خاموش رہتا۔ وہ جانتا تھا کہ اس کے پاس تجربہ نہیں۔ لیکن اس کے پاس کچھ اور تھا۔ صبر۔ ایک دن Rick اور John کے درمیان بہت بڑا جھگڑا ہوا۔ Rick نے کہا۔ تم کپتان ہو۔ تم نے ہمیں مارنے کے لیے چھوڑ دیا۔ John نے کہا۔ میں تمہیں بچانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ Rick نے کہا۔ تم کچھ نہیں کر رہے۔ تم بس بیٹھے ہو۔

"05f8b004-18ab-4d36-8770-2cbff558f514"

fde7e1e1-ce98-440a-8e94-769b6e1cc061

ایک چھوٹے سے گاؤں میں احمد نام کا ایک لڑکا رہتا تھا۔ اس کے خواب بہت بڑے تھے، لیکن حالات اس کے برعکس تھے۔ گھر کی مالی حالت کمزور تھی، اور اکثر اسے یہ سننے کو ملتا کہ "تم سے کچھ نہیں ہوگا"۔ احمد کو پڑھنے کا بہت شوق تھا، مگر وسائل نہ ہونے کی وجہ سے وہ اکثر اداس رہتا۔ ایک دن اس نے فیصلہ کیا کہ وہ حالات کا رونا نہیں روئے گا بلکہ انہیں بدلے گا۔ اس نے پرانی کتابیں اکٹھی کیں، رات کو کم روشنی میں پڑھنا شروع کیا، اور دن میں لوگوں کے چھوٹے موٹے کام کر کے کچھ پیسے جمع کرنے لگا۔ شروع میں اسے بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کبھی تھکن، کبھی لوگوں کی باتیں، اور کبھی اپنی ہی ہمت جواب دینے لگتی۔ لیکن ہر بار وہ خود سے کہتا، "اگر میں آج ہار مان گیا تو کل کبھی نہیں جیت سکوں گا۔" وقت گزرتا گیا، اور احمد کی محنت رنگ لانے لگی۔ اس نے اپنے امتحانات میں بہترین کارکردگی دکھائی اور شہر کے ایک اچھے کالج میں داخلہ حاصل کر لیا۔ گاؤں کے وہی لوگ جو اسے کمزور سمجھتے تھے، اب اس کی مثال دینے لگے۔ احمد نے ثابت کر دیا کہ کامیابی صرف وسائل سے نہیں بلکہ عزم، محنت اور مسلسل کوشش سے ملتی ہے۔ اس نے سیکھ لیا تھا کہ راستہ کتنا بھی مشکل کیوں نہ ہو، اگر انسان ہمت نہ ہارے تو منزل ضرور ملتی ہے۔ آخر میں احمد نے اپنے گاؤں کے بچوں کے لیے ایک چھوٹی سی لائبریری بنائی تاکہ کوئی اور بچہ صرف وسائل کی کمی کی وجہ سے اپنے خواب ادھورے نہ چھوڑے۔

"fde7e1e1-ce98-440a-8e94-769b6e1cc061"

← Return to Studio