یہ نہیں بتایا جا سکتا کہ محافظ خنجر کہاں اتارنا چاہتا تھا۔ دل میں یا سینے میں۔ مگر ہوا یوں کہ خنجر صلاح الدین ایوبی کی پگڑی کے بالائی حصے میں اتر گیا اور سر سے بال برابر دور رہا، پگڑی سر سے سے اُتر گئی۔ صلاح الدین ایوبی بجلی کی تیزی سے اٹھا۔ اُسے یہ سمجھنے میں دیر نہ لگی کہ یہ سب کیا ہے ۔ اُس پر اس سے پہلے ایسے دو حملے ہو چکے تھے ۔ اُس نے اس پر بھی حیرت کا اظہار نہ کیا کہ حملہ آور اس کے اپنے باڈی گارڈز کے لباس میں تھا جسے اس نے خود اپنی باڈی گارڈز کے لیے منتخب کیا تھا ۔ اس نے ایک سانس جتنا عرصہ بھی ضائع نہ کیا ۔ حملہ آور اس کی پگڑی سے خنجر کھینچ رہا تھا ۔ ایوبی سر سے ننگا تھا۔ اُس نے حملہ آور کی ٹھوڑی پر پوری طاقت سے گھونسہ مارا۔ ہڈی ٹوٹنے کی آواز سنائی دی۔
Use these settings →2026-03-28
b9f786bd-6039-4367-a716-8b32f04b9722
ID: 4da6f1a7-93e9-4d26-b5f9-6036605b378b
Created: 2026-03-28T11:22:47.805Z