Free English Text to Speech

b9f786bd-6039-4367-a716-8b32f04b9722

یہ نہیں بتایا جا سکتا کہ محافظ خنجر کہاں اتارنا چاہتا تھا۔ دل میں یا سینے میں۔ مگر ہوا یوں کہ خنجر صلاح الدین ایوبی کی پگڑی کے بالائی حصے میں اتر گیا اور سر سے بال برابر دور رہا، پگڑی سر سے سے اُتر گئی۔ صلاح الدین ایوبی بجلی کی تیزی سے اٹھا۔ اُسے یہ سمجھنے میں دیر نہ لگی کہ یہ سب کیا ہے ۔ اُس پر اس سے پہلے ایسے دو حملے ہو چکے تھے ۔ اُس نے اس پر بھی حیرت کا اظہار نہ کیا کہ حملہ آور اس کے اپنے باڈی گارڈز کے لباس میں تھا جسے اس نے خود اپنی باڈی گارڈز کے لیے منتخب کیا تھا ۔ اس نے ایک سانس جتنا عرصہ بھی ضائع نہ کیا ۔ حملہ آور اس کی پگڑی سے خنجر کھینچ رہا تھا ۔ ایوبی سر سے ننگا تھا۔ اُس نے حملہ آور کی ٹھوڑی پر پوری طاقت سے گھونسہ مارا۔ ہڈی ٹوٹنے کی آواز سنائی دی۔

Use these settings →

2026-03-28

b9f786bd-6039-4367-a716-8b32f04b9722

ID: 4da6f1a7-93e9-4d26-b5f9-6036605b378b

Created: 2026-03-28T11:22:47.805Z

More Shares

58d010cc-03f5-4e9e-9dfc-b6e72d26631c

ہماری تلوار غیروں کے لیے ہے ، اپنوں کا خون بہانے کے لیے نہیں۔ میں ناجی کی ذہنیت کو پیار اور محبت سے بدل سکتا ہوں ۔ تم اس فوج کی ذہنیت معلوم کرنے کی کوشش کرو۔ مجھے صحیح اطلاع دو کہ فوج کہاں تک ہماری وفادار ہے " مگر نا جی اتنا کچا آدمی نہیں تھا۔ اس کی ذہنیت پیار اور محبت کے بکھیڑوں سے آزاد تھی۔ اُسے اگر پیار تھا تو اپنے اقتدار اور شیطانیت کے ساتھ تھا۔ اس لحاظ سے وہ پتھر تھا مگر جسے اپنے جال میں پھانسنا چاہتا اس کے سامنے موم ہو جانا تھا۔ اس نے صلاح الدین ایوبی کے ساتھ یہی رویہ اختیار کیا ۔ اس کے سامنے وہ بیٹھتا نہیں تھا۔ ہاں میں ہاں ملاتا چلا جاتا تھا۔ اس نے مصر کے مختلف خطوں سے ایوبی کے حکم کے مطابق فوج کے لیے بھرتی شروع کر دی تھی ، حالانکہ یہ کام اُس کی مرضی کے خلاف تھا۔ دن گزرتے جارہے تھے۔ صلاح الدین ایوبی اُسے کچھ کچھ پسند کرنے لگا تھا ۔ ناجی نے اُسے یقین دلایا تھا کہ سوڈانی باڈی گارڈز فوج حکم کی منتظر ہے اور یہ قوم کی توقعات پر پوری اُترے گی ۔ ناجی صلاح الدین ایوبی کو دو تین مرتبہ کہہ چکا تھا کہ وہ باڈی گارڈز کی طرف سے اُسے دعوت دینا چاہتا ہے اور فوج اس کے اعزاز میں جشن منانے کے لیے بے تاب ہے لیکن صلاح الدین ایوبی مصروفیت کی وجہ سے یہ دعوت قبول نہیں کر سکا تھا ۔ رات کا وقت تھا۔ ناجی اپنے کمرے میں اپنے دو معتمد جونئیر کمانڈروں کے ساتھ بیٹھا، شراب پی رہا تھا۔ دو ناچنے والیاں سازوں کی ہلکی ہلکی موسیقی پر مستی میں آئی ہوئی ناگنوں کی طرح مسحور کن اداؤں سے رقص کر رہی تھیں ۔ اُن کے پاؤں میں گھنگھرو نہیں تھے ۔ اُن کے جسموں پر کپڑے صرف اسی قدر تھے کہ اُن کے ستر ڈھکے ہوئے تھے ۔ اس رقص میں خمار کا تاثر تھا۔

"58d010cc-03f5-4e9e-9dfc-b6e72d26631c"

← Return to Studio