Classic
Use these settings →2026-03-08
ایک چھوٹے سے گاؤں کے کنارے ایک پرانا سا ریلوے اسٹیشن تھا۔ وہ اسٹیشن اتنا خاموش تھا کہ کبھی کبھی ایسا لگتا جیسے وقت بھی وہاں آ کر رک گیا ہو۔ اسی اسٹیشن کے پاس ایک نوجوان لڑکا روز آ کر بیٹھتا تھا۔ اس کا نام حارث تھا۔ وہ ہر شام ٹھیک پانچ بجے اس ٹوٹی ہوئی بینچ پر بیٹھ جاتا اور دور پٹریوں کی طرف دیکھتا رہتا۔ گاؤں کے لوگ اکثر اسے دیکھتے تھے، مگر کسی کو سمجھ نہیں آتی تھی کہ وہ روز یہاں کیوں آتا ہے۔ ایک دن ایک بوڑھا شخص اس کے پاس آ کر بیٹھ گیا اور آہستہ سے بولا: “بیٹا… تم روز یہاں کیوں آتے ہو؟ کیا کسی کا انتظار کرتے ہو؟” حارث نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا: “جی… میں کسی کا انتظار کرتا ہوں… مگر شاید وہ اب کبھی نہیں آئے گی۔” بوڑھے شخص نے حیران ہو کر پوچھا: “پھر بھی تم روز آتے ہو؟” حارث نے آہستہ سے آسمان کی طرف دیکھا اور بولا: “کیونکہ وعدے آسانی سے نہیں ٹوٹتے… خاص طور پر وہ وعدے جو دل سے کیے گئے ہوں۔” پھر اس نے اپنی کہانی سنانا شروع کی۔ چند سال پہلے اسی اسٹیشن پر وہ ایک لڑکی سے ملا تھا۔ اس کا نام عائشہ تھا۔ عائشہ شہر جا رہی تھی پڑھنے کے لیے، اور حارث اسے رخصت کرنے آیا تھا۔ ٹرین آنے سے پہلے عائشہ نے حارث کا ہاتھ پکڑ کر کہا تھا: “حارث… اگر قسمت نے ساتھ دیا تو میں ضرور واپس آؤں گی… اور اگر نہ آ سکی… تو تم مجھے بھول جانا۔” حارث نے ہنس کر جواب دیا تھا: “میں روز یہاں آ کر تمہارا انتظار کروں گا۔” ٹرین آئی… سیٹی بجی… اور عائشہ چلی گئی۔ پہلے دن حارث کو یقین تھا کہ وہ جلد واپس آئے گی۔
ID: 3dc15fc5-ed48-416d-955b-274e9c600ec8
Created: 2026-03-08T11:35:14.937Z