Free English Text to Speech

At around 25 days of age, broiler chickens enter a very critical phase where rapid body gr

2026-04-09

At around 25 days of age, broiler chickens enter a very critical phase where rapid body growth puts extra pressure on their overall health, and multiple issues often appear together if management is not proper. One of the main root causes is poor ventilation, which allows ammonia gas to build up inside the shed. This not only creates respiratory problems—such as panting, coughing, and open-mouth breathing—but also weakens the birds’ immunity, making them more vulnerable to bacterial infections like E. coli. At the same time, wet litter caused by water leakage, high humidity, or inadequate airflow further worsens the environment. It increases ammonia levels, damages the birds’ feet and skin, and becomes a breeding ground for harmful bacteria. These combined stresses lead to reduced feed intake, uneven flock growth, and overall poor performance

ID: 3386cdf8-597b-415c-aed6-62bda981f2c3

Created: 2026-04-09T07:51:54.217Z

More Shares

a417d3bf-dc2b-4821-b844-3147ca379ffa

اگر آپ پاکستان کے دل میں کسی ایسے شہر کی تلاش میں ہیں جہاں تاریخ، ثقافت اور روحانیت ایک ساتھ سانس لیتی ہو، تو وہ شہر ملتان ہے۔ ملتان صرف ایک شہر نہیں بلکہ ہزاروں سال پر محیط ایک زندہ داستان ہے۔ اسے “اولیاء کا شہر” کہا جاتا ہے، اور یہ نام اسے یوں ہی نہیں ملا، بلکہ یہاں ہر گلی، ہر عمارت اور ہر مزار ایک کہانی سناتا ہے۔ آئیے ہم ایک طویل مگر دلکش سفر کا آغاز کرتے ہیں — ملتان کے تاریخی مقامات کا سفر، جو ہمیں قدیم تہذیبوں، عظیم سلطنتوں اور روحانی شخصیات کے درمیان لے جائے گا۔ ملتان کی تاریخ اتنی پرانی ہے کہ اس کے آثار ہمیں قدیم زمانوں میں بھی ملتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہ شہر وادیٔ سندھ کی تہذیب کا حصہ رہا ہے۔ یہ ایک اہم تجارتی مرکز تھا جہاں سے قافلے ایران، وسطی ایشیا اور برصغیر کے دیگر علاقوں تک سفر کرتے تھے۔ مختلف ادوار میں یونانیوں، ہندوؤں، بدھ مت کے پیروکاروں، مسلمانوں اور برطانوی راج نے یہاں حکومت کی۔ اب ہم اپنے سفر کا پہلا اہم مقام دیکھتے ہیں — Multan Fort۔ ملتان قلعہ ایک بلند مقام پر واقع ہے اور شہر کی قدیم ترین نشانیوں میں سے ایک ہے۔ اس کی تاریخ دو ہزار سال سے بھی زیادہ پرانی بتائی جاتی ہے۔ یہ قلعہ کئی بار تباہ ہوا اور دوبارہ تعمیر کیا گیا، مگر ہر بار اس نے اپنی اہمیت برقرار رکھی۔ کہا جاتا ہے کہ سکندر اعظم جب اس خطے میں آیا تو اسے اس قلعے کی مضبوطی کا سامنا کرنا پڑا۔ قلعے کے اندر کبھی شاہی محلات، دربار اور دفاعی نظام موجود تھے۔ آج اگرچہ اس کی حالت پہلے جیسی نہیں رہی، مگر اس کے کھنڈر بھی ماضی کی عظمت کی گواہی دیتے ہیں۔ یہاں کھڑے ہو کر پورا ملتان شہر دیکھا جا سکتا ہے، جو ایک منفرد تجربہ ہے۔ اب ہم بڑھتے ہیں ایک نہایت روحانی اور خوبصورت مقام کی طرف — Shrine of Shah Rukn

"a417d3bf-dc2b-4821-b844-3147ca379ffa"

74b02557-15a1-432f-b873-c0fd9c4b4eb8

John نے غصے میں کہا۔ تو تم کپتان بنو۔ Rick نے کہا۔ بنوں گا۔ دونوں ایک دوسرے کی طرف دیکھتے رہے۔ Phil نے کہا۔ بند کرو۔ دونوں نے Phil کی طرف دیکھا۔ Phil نے کہا۔ ہم سب مر جائیں گے۔ لیکن اس سے پہلے ہم ایک دوسرے کو مار ڈالیں گے۔ Phil نے کہا۔ ہمیں ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔ چاہے ہم ایک دوسرے سے نفرت ہی کیوں نہ کریں۔ اس دن سے جھگڑے تو کم ہو گئے۔ لیکن نفرت ختم نہیں ہوئی۔ سب سے بڑی جنگ تھی۔ کھانے اور پانی کی۔ John نے پہلے دن حساب لگایا تھا۔ ان کے پاس تھا۔ 20 ڈبے۔ 60 بسکٹ۔ اور پانی کے تین ڈرم۔ یہ چار آدمیوں کے لیے کتنا تھا؟ اگر وہ معمول کے مطابق کھاتے تو زیادہ سے زیادہ 15 دن میں ختم ہوجاتے ۔ لیکن انہیں اگلی منزل معلوم نہیں تھی اور تب تک انہیں زندہ رہنا تھا۔ John نے اصول بنایا۔ ہر آدمی کے لیے دن میں دو بسکٹ۔ پانی کا ایک کپ۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ دو بسکٹ بہت کم ہیں۔ لیکن یہ بھی زیادہ تھے۔ کیونکہ 119 دن کے لیے دو بسکٹ بھی کافی نہیں تھے۔ پہلا مہینہ گزرا۔ بسکٹ ختم ہونے لگے۔ John نے کہا۔ اب ایک بسکٹ ملے گا ۔ دوسرا مہینہ گزرا۔ John نے کہا۔ آدھا بسکٹ ہوگا ۔ تیسرا مہینہ گزرا۔ بسکٹ مکمل ختم۔ اب کیا کھائیں؟ انہوں نے وہ سب کھایا جو کشتی میں تھا۔ گلو۔ جو کشتی کے جوڑ میں لگا تھا۔ اسے چھری سے کھرچ کر کھایا۔ چکنائی۔ انجن کی چکنائی۔ اسے چمچ سے نکال کر کھایا۔ جوتوں کے تلوے تک ابال کر کھا لیے ۔ کتابوں کے کور۔ انہیں پانی میں بھگو کر کھائے لیکن پانی اس سے بھی بڑا مسئلہ تھا۔ پانی کے تین ڈرم۔ John نے حساب لگایا۔ ہر آدمی کو دن میں ایک گلاس۔ لیکن چالیس دن بعد پانی ختم ہو گیا۔ اب پانی کہاں سے لائیں؟ جب بھی بارش ہوتی، چاروں اپنے کپڑے پھیلا دیتے۔ کپڑوں سے پانی ٹپکتا۔ وہ اسے اپنے برتنوں میں جمع کرتے۔ ایک بار 40 دن تک بارش نہیں ہوئی۔ 40 دن۔ چاروں کی زبان سوج گئی۔ ہونٹ پھٹ گئے۔ آنکھیں دھنس گئیں۔ Jim کی آواز نکلنا بند ہو گئی۔ Phil کھانس رہا تھا۔ Rick کی جلد سوکھ کر اترنے لگی۔ John کو چکر آنے لگے۔ وہ مر رہے تھے۔ اور پھر اچانک بارش شروع ہوئی۔ چاروں نے اپنے کپڑے پھیلائے۔ اپنے منہ کھولے۔ پانی پیا۔ وہ دن تھا جب چاروں نے محسوس کیا کہ وہ ابھی زندہ ہیں۔ لیکن کھانے کو اب بھی کچھ نہیں تھا۔

"74b02557-15a1-432f-b873-c0fd9c4b4eb8"

← Return to Studio