Free English Text to Speech

da36db04-6299-4b1c-90a8-454892604290

"ہیلو دوستوں! میرا نام اسماعیل بیگ ہے۔ میں آج رمضان کے بازار میں آیا ہوں تاکہ آپ سے انٹرویو کر سکوں۔ میں ایک چھوٹا رپورٹر ہوں اور آج میں جاننا چاہتا ہوں کہ بازار میں سب کچھ کیسا ہے۔ آج خواتین سے بات کرنے آیا ہوں اور وہ سب مسکرا رہی ہیں۔ میں پوچھ رہا ہوں، آپ سبزی خریدتے وقت سب سے زیادہ خوش کب ہوتی ہیں؟ اور آج بازار میں سب سے مزیدار چیز کیا لگ رہی ہے؟ یہ تھا میرا چھوٹا سا رپورٹر سیشن! میں ہوں اسماعیل بیگ، اور بازار

Use these settings →

2026-03-16

da36db04-6299-4b1c-90a8-454892604290

ID: 1b5ad5f1-48c1-45f6-99b1-76bbf8ef5576

Created: 2026-03-16T20:42:21.761Z

More Shares

dcd709e9-e06f-433d-b782-36faf269cbe7

تصور کریں۔ آپ سمندر کے بیچ میں ہیں۔ آس پاس ہزاروں کلومیٹر تک صرف پانی۔ نیلا پانی۔ گہرا پانی۔ وہ پانی جو آپ کی آنکھیں تو دیکھ سکتی ہیں لیکن دماغ یقین کرنے سے انکار کر دیتا ہے کہ اتنا پانی بھی ہو سکتا ہے۔ آپ کی کشتی الٹ چکی ہے۔ آپ نے آخری بار 119 دن پہلے انسان کو دیکھا تھا۔ 119 دن۔ چار ماہ۔ ایک موسم گرما، ایک خزاں، اور آدھا موسم سرما۔ آپ کا وزن آدھا رہ گیا ہے۔ آپ کی ہڈیاں باہر سے نظر آتی ہیں۔ آپ کی جلد ہڈیوں سے چپک گئی ہے۔ آپ کے بال جھڑ چکے ہیں۔ آپ کے دانت ڈھیلے ہو گئے ہیں۔ آپ کے ساتھی آپ سے نفرت کرتے ہیں۔ چاروں ایک دوسرے سے نفرت کرتے ہیں۔ لیکن وہ ایک دوسرے کے بغیر مر جائیں گے۔ یہ نفرت اور ضرورت کا وہ رشتہ ہے جو صرف جہنم میں بنتا ہے۔ اور سب سے بڑی بات۔ پوری دنیا کو یقین نہیں کہ آپ زندہ ہیں۔ نہ صرف یہ کہ آپ زندہ ہیں، بلکہ لوگوں کو یقین نہیں کہ آپ کبھی زندہ تھے ہی۔ اخبارات آپ کو جھوٹا کہتے ہیں۔ ٹی وی اینکر آپ پر ہنستے ہیں۔ لوگ آپ کے گھر کے باہر جمع ہو کر پتھر پھینکتے ہیں۔ آپ 119 دن سمندر کی موت سے لڑے۔ اور اب آپ کو اپنے سچ کو ثابت کرنے کے لیے لڑنا ہے۔ یہ ہے 1989 کی وہ کہانی جس نے پوری دنیا کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ چار آدمی۔ ایک کشتی۔ 119 دن۔ اور ایک سچ جو آج تک تنازعہ بنا ہوا ہے۔ یہ کہانی ہے چار دوستوں کی جو ایک خوبصورت جزیرہ دیکھنے کا خواب پورا کرنے نکلے , لیکن پھر کچھ ایسا ہوا کہ دنیا نے ان کو زندہ ماننے سے ہی انکار کر دیا

"dcd709e9-e06f-433d-b782-36faf269cbe7"

← Return to Studio