chirp3-hd:Kore
Use these settings →2026-04-09
مختلف ادوار کے حالات بچپن : 1. صحیح خوراک اور کھانا نہ ملنا، کھانا مانگنے پر والدہ کا چیخنا چلانا۔ 2. والد کا ہمیں (مجھے اور میری بہن کو) چھوٹی عمر (3 سال سے 7 سال کی عمر) میں اندھیرے کمرے میں بند کر کے چیخنا چلانا اور آنکھیں دکھانا اور یہ عمل ہماری ٹین ایج تک دہرایا گیا جس سے ہم میں فوبیا پیدا ہوا۔ ٹین ایج : 1. والد کا کام نہ کر کے مصنوعی جمود اور ہسٹیریا پیدا کرنا۔ 2. اپنی ذمہ داریوں سے بھاگنا، سوال کرنے پر چیخنے چلانے لگنا اور جو خوف بچپن میں کمرے میں بند کر کے بٹھایا گیا تھا اس کے ذریعے مزید ڈرانا۔ 3. آہستہ آہستہ چھوٹے بھائی (انس) کو بڑے بہن بھائیوں کے خلاف اکسانا اور اس کے اندر ان کے خلاف نفرت پیدا کرنا اور اس کے اندر یہ بات بٹھانا کہ کل کو اس نے (انس نے) ہی ان کی جگہ لینی ہے۔ 4. اس عمر تک آہستہ آہستہ یہ سمجھ آنے لگی کہ معاشی جمود مصنوعی ہے اور میں نے (حارث) نے آہستہ آہستہ اس کے خلاف آواز اٹھانا شروع کر دی۔ اسی وجہ سے 21 سال کی عمر تک میرا شناختی کارڈ نہیں بننے دیا گیا تاکہ میں اپنے والدین سے الگ نہ ہو جاؤں۔ آپ کا سوال بھی درست ہے کہ میں نے خود کیوں نہیں بنوایا؟ جس کا جواب یہ ہے کہ والدین نے بری طرح ہمیں ڈرا رکھا تھا، میرا دماغ نہیں چلنے دیتے تھے۔ دوسرا بغیر والدین کے شناختی کارڈ کے اور والدین جب تک خود نہ جائیں اس وقت تک شناختی کارڈ نہیں بنتا تھا۔ اور یہی حال پاسپورٹ کا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ میری اچھی عمر انہوں نے جان بوجھ کر ضائع کی تاکہ میں پاؤں پر کھڑا ہو کر ان سے الگ نہ ہو جاؤں۔ ٹین ایج کے بعد کے حالات: 1. گھر کے حالات اور والدین کے رویے اور ان کی ذہنی حالت اور جو مصنوعی جمود انہوں نے پیدا کر رکھا تھا اس کا اثر شروع سے (بچپن سے) میری اور میری بہن کی تعلیم پر رہ
ID: 189fc0a2-c6cf-4e9a-96e5-807792f1cadd
Created: 2026-04-09T03:47:15.025Z