Free English Text to Speech

408b0b28-5bb5-45f3-90d7-51b437bf80a7

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : پانچ چیزیں فطرت میں سے ہیں : مونچھ کترنا، بغل کے بال اکھیڑنا، ناخن تراشنا، زیر ناف کے بال صاف کرنا، اور ختنہ کرنا ۔

Use these settings →

2026-03-29

408b0b28-5bb5-45f3-90d7-51b437bf80a7

ID: 120c155c-d4dd-4fbc-b7a1-03a7d00524ed

Created: 2026-03-29T03:12:57.061Z

More Shares

9a42a75e-c25d-4d2d-abf3-78b177dd8ae0

وہ ان سب کو سہارا دیتا۔ ایک دن Rick نے Jim سے کہا۔ تم پاگل کیوں نہیں ہوتے؟ Jim نے کہا۔ کیونکہ میرے پاس کام ہے۔ Rick نے کہا۔ کیا کام؟ Jim نے کہا۔ تمہیں زندہ رکھنا۔ Rick چپ ہو گیا۔ اس دن سے Rick نے Jim کی مدد کرنا شروع کی۔ پھر Phil نے بھی۔ پھر John نے بھی۔ چاروں نے مچھلی پکڑنا، پانی جمع کرنا، ایک دوسرے کو کھانا دینا شروع کر دیا۔ نفرت ختم نہیں ہوئی تھی۔ لیکن نفرت سے زیادہ ضرورت تھی۔ وہ ایک دوسرے کے بغیر نہیں رہ سکتے تھے۔ 30 ستمبر 1989۔ صبح کے چھ بجے تھے۔ Phil نے سب سے پہلے دیکھا۔ کشتی کی ایک شگاف سے اسے کچھ نظر آیا۔ اس نے آنکھیں موندیں۔ پھر کھولیں۔ وہ وہی تھا۔ زمین۔ Phil نے آواز دی۔ زمین! مجھے زمین نظر آ رہی ہے! چاروں نے اس طرف دیکھا۔ John نے کہا۔ یقین ہے؟ Phil نے کہا۔ یقین ہے۔ Rick نے کہا۔ میں بھی دیکھ رہا ہوں۔ Jim نے کہا۔ زمین ہے۔ چاروں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔ اور پھر وہ سب رو پڑے۔ 119 دن کے بعد پہلی بار انہوں نے رونا محسوس کیا۔ کشتی آہستہ آہستہ ساحل کی طرف بڑھ رہی تھی۔ لہریں اسے دھکیل رہی تھیں۔ چاروں نے ساحل کو قریب آتے دیکھا۔ درخت۔ پتھر۔ ریت۔ وہ چیزیں جو کبھی معمول تھیں، اب ان کے لیے جنت تھیں۔ کشتی ساحل سے ٹکرائی۔ چاروں نے ایک دوسرے کی مدد کی۔ وہ باہر نکلے۔ ان کے جسم کمزور تھے۔ ہڈیاں نظر آ رہی تھیں۔ بال اور داڑھی بڑھ چکی تھی۔ آنکھیں دھنس گئی تھیں۔ لیکن وہ کھڑے تھے۔ وہ زمین پر کھڑے تھے۔ 119 دن بعد۔ John نے ریت پر گھٹنے ٹیک دیے۔ Rick آسمان کی طرف دیکھ رہا تھا۔ Phil درختوں کو چھو رہا تھا۔ Jim مسکرا رہا تھا۔ چار آدمی۔ ایک الٹی کشتی۔ 119 دن۔ 2200 کلومیٹر کا سفر۔ اور وہ زندہ تھے۔ 30 ستمبر 1989۔ صبح کے چھ بجے تھے۔ Phil نے سب سے پہلے دیکھا۔ کشتی کی ایک شگاف سے اسے کچھ نظر آیا۔ اس نے آنکھیں موندیں۔ پھر کھولیں۔ وہ وہی تھا۔ زمین۔ Phil نے آواز دی۔ زمین! مجھے زمین نظر آ رہی ہے! چاروں نے اس طرف دیکھا۔ John نے کہا۔ یقین ہے؟ Phil نے کہا۔ یقین ہے۔ Rick نے کہا۔ میں بھی دیکھ رہا ہوں۔ Jim نے کہا۔ زمین ہے۔ چاروں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔ اور پھر وہ سب رو پڑے۔ 119 دن کے بعد پہلی بار انہوں نے رونا محسوس کیا۔ کشتی آہستہ آہستہ ساحل کی طرف بڑھ رہی تھی۔ لہریں اسے دھکیل رہی تھیں۔ چاروں نے ساحل کو قریب آتے دیکھا۔ درخت۔ پتھر۔ ریت۔

"9a42a75e-c25d-4d2d-abf3-78b177dd8ae0"

3cf0d397-29a2-4b77-8076-38303ff4489e

اس کے ہونٹوں پر قدرتی تبسم ادھ کھلی کلی کی مانند تھا۔ ناجی نے اسے سر سے پاؤں تک دیکھا اور کہا۔ " صلاح الدین ایوبی پر تمہارے جسمانی حسن کا شاید اثر نہ ہو ۔ اپنی زبان استعمال کرنا۔ وہ سبق بھولنا نہیں جو میں اتنے دنوں سے تمہیں پڑھا رہا ہوں اور یہ بھی نہ بھولنا کہ اُس کے پاس جا کہ اُس کی لونڈی نہ بن جانا ۔ انجیر کا وہ پھول بن جانا جو درخت کی چوٹی پر نظر آتا ہے مگر درخت پر چڑھ کر دیکھو تو غائب ہو جاتا ہے ۔ اُسے اپنے قدموں میں بٹھا لینا۔ میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ تم اس پتھر کو پانی میں تبدیل کر لو گی ۔ اسی سر زمین میں قلوپطرہ نے سیزر جیسے مرد آہن کو اپنے حسن و جوانی سے پگھلا کر مصر کی ریت میں بہا دیا تھا ۔ قلوپطرہ تم سے زیادہ خوبصورت نہیں تھی۔ میں نے تمہیں جو سبق دیئے ہیں وہ قلوپطرہ کی چالیں تھیں ۔ عورت کی یہ چالیں کبھی ناکام نہیں ہو سکتیں۔ ذوکوئی مسکرا رہی تھی اور بڑے غور سے سن رہی تھی ۔ مصر کی ریت نے ایک اور قلو پطرہ کو حسین ناگن کی طرح جنم دیا تھا۔ مصر کی تاریخ اپنے آپ کو دہرانے والی تھی۔ سورج غروب ہو گیا تو مشعلیں جل اٹھیں ۔ صلاح الدین ایوبی گھوڑے پر سوار آگیا ۔ اُس کے دائیں بائیں ، آگے اور پیچھے اُس کے اُن محافظوں کے گھوڑے تھے جو علی بن سفیان نے منتخب کیے تھے ۔ اسی دستے میں سے اُس نے دس محافظ شام سے پہلے ہی یہاں لاکر صلاح الدین ایوبی کے خیمے کے گرد کھڑے کر دیئے تھے۔ سازوں نے دف کی آواز پر استقبالیہ دھن بجائی اور صحرا " امیر مصر صلاح الدین ایوبی زندہ باد کے نعروں سے گونجنے لگا۔ ناجی نے آگے بڑھ کر استقبال کیا اور کہا " آپ کے جاں نثار ، عظمت اسلام کے پاسبان آپ کو بسر و چشم خوش آمدید کہتے ہیں۔ اُن کی بے تابیاں اور بے قراریاں دیکھئے ۔ آپ کے اشارے پر کٹ مریں گے اور خوشامد کے لیے اُسے جتنے الفاظ یاد آئے اُس نے کہہ ڈالے ۔ جونہی صلاح الدین ایوبی اپنی شاہانہ نشست پر بیٹھا ، سرپٹ دوڑتے گھوڑوں کی ٹاپوؤں کی آوازیں سنائی دیں۔ گھوڑے جب منشعلوں کی روشنی میں آئے تو سب نے دیکھا کہ چار گھوڑے دائیں سے اور چار بائیں سے دوڑے آرہے تھے ۔ سب پر ایک ایک سوار تھا ۔ اُن کے پاس ہتھیار نہیں تھے ۔ وہ ایک دوسرے کے آمنے سامنے آرہے تھے ۔ صاف ظاہر تھا کہ وہ ٹکرا جائیں گے ۔ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ وہ کیا کریں گے ۔ وہ ایک دوسرے کے قریب آئے تو دونوں فریقوں کے سوار رکابوں میں پاؤں جما کر کھڑے ہو گئے

"3cf0d397-29a2-4b77-8076-38303ff4489e"

← Return to Studio